پیر  06  اپریل  2026ء
 تازہ ترین 
< >
گھر میں چقندر اگانے کا طریقہ
ارشاد صدیق سے اتوار  15  دسمبر  2024ء
موسم سرما میں چقندر کا استعمال بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے
گھر میں چقندر اگانے کا طریقہ
 
چقندر ایک بہت ہی فائدہ مند چیز ہے۔ یہ شلجم کی طرح کا ہوتا ہے لیکن سائز میں اُس سے چھوٹا ہوتا ہے۔ چقندر کے بہت سے طبعی فوائد ہیں۔ ایک فائدہ اِس کا یہ بھی ہے کہ اِس کے پتوں کو بھی پکا کر کھایا جاتا ہے۔ اِس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اِس کی سرخ رنگ والی قسم پائی جاتی ہے۔ چقندر کی مختلف اقسام کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اِس کو موسم سرما کے شروع میں اگایا جاتا ہے۔ عام طور پر چقندر کو کیاریوں میں اگایا جاتا ہے لیکن کیوں کہ اِس کو اگنے کے لیے زیادہ جگہ درکار نہیں ہوتی اِس لیے ہم اِس کو کنٹینرز یا گملوں میں بھی لگا سکتے ہیں۔ چقندر کے بیج بونے سے پہلے ہم مٹی تیار کرتے ہیں۔ کیوں کہ چقندر کو مٹی میں ہی بڑا ہونا ہوتا ہے اِس لیے مٹی ریتلی اور نرم ہونی چاہیے۔ اگر چکنی مٹی ہو گی تو چقندر مٹی میں ذیادہ بڑا نہیں ہو سکے گا کیوں کے چکنی مٹی بہت سخت ہوتی ہے اور یہ آسانی سے اپنی جگہ سے نہیں ہٹتی۔ جبکہ ریتلی اور نرم مٹی آسانی سے اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے اور چقندر کا سائز بڑا ہوتا رہتا ہے۔ مٹی کو تیار ایسے کرنا ہے کہ آدھی مٹی لے لینی ہے اور آدھی ریت اور اورگینک کھاد اِن تینوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کر لیں۔ کوشش کریں کے اورگینک کھاد ذیادہ ڈالیں اگر آپ کے پاس اورگینک کھاد نہیں ہے تو آپ اِس کی جگہ گوبر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مٹی کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد اِس کو گملوں یا کنٹینرز میں بھر لیں اِس کے مٹی میں پانی ڈالیں۔ پانی اتنا ڈالنا ہے کہ گملے یا کنٹینر کی تمام مٹی اچھی طرح گیلی ہو جائے۔ اب آپ اِس گملے کو ایک دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیں۔ اگے دن آپ اُس گملے یا کنٹینر کی مٹی میں ترتیب کے ساتھ چار چار انچ کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے سوراخ کر لیں اِس کے بعد آپ کو چقندر کے بیج چاہیے ہوں گے۔ آپ چقندر کی کسی بھی قسم کے بیج لے لیں جو آپ کو پسند ہوں۔ بیج آپ کو آپ کی لوکل نرسری یا پھر بیج والی دوکان سے مل جائیں گے۔ اب آپ گملے کی مٹی میں کیے گے ہر سوراخ میں ایک ایک بیج ڈال دیں۔ بیج ڈالنے کے بعد سوراخ کو مٹی سے ڈھک دیں۔ اور پھر شاور کی مدد سے گملے آرام آرام سے پانی ڈالیں تاکہ مٹی بیجوں کے اوپر سے ہٹ نہ جائے۔ اب اسی طرح ہر روز گملے میں پانی ڈالتے رہیے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر بیجوں میں سے پودے پھوٹ پریں گے۔ ان شاء اللہ چقندر کے کچھ بیج ایسے ہوں کے جن میں سے ایک کی بجائے دو پودے نکلیں گے۔ آپ اُن پودوں کو بڑا ہونے دیں۔ جب وہ ایک یا دو اینچ کے ہو جائیں تو جن جن بیجوں میں سے دو دو پودے نکلے تھے اُن دو میں سے جو کمزور پودا ہو آپ اُس کو نکال کر کسی دوسری جگہ بھی لگا سکتے ہیں۔ اُس پودے کو نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے شاور کی مدد سے اُس پودے پر اچھی طرح پانی ڈالیں پھر کمزور والے پودے کو آرام سے پکڑ کر آہستہ آہستہ باہر نکالیں جب وہ باہر نکل آئے تو آپ اُن کو کسی دوسری جگہ مٹی میں سوراخ کر کے لگا لیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس جگہ کم ہو اور آپ اُس پودے کو کسی دوسری جگہ لگانا نہ چاہیں تو آپ اُس کو زمین سے باھر نہ نکالیں بلکہ اُس کے اوپر والے حصے کو اپنے ناخنوں کی مدد سے کاٹ دیں۔ یاد رہے کہ جو پودا آپ نے باہر نکالنا یا کاٹنا ہے وہ کمزور والا ہونا چاہیے تاکہ اگر وہ باہر نکالتے وقت ٹوٹ جائے تو آپ کے پودوں کا ذیادہ نقصان نہ ہو۔ اب آپ ہر روز اپنے پودوں کو پانی دیں۔ کچھ ہی عرصے بعد آپ کے پودے بڑے ہو جائیں گے اور اُن پر بہت سے پتے نکل آئیں گے۔ اگر آپ چاہیں تو ہر چقندر کے پودے سے کچھ پتے کاٹ کر پکا بھی سکتے ہیں لیکن کچھ پتے چقند کے پودے پر ہی رہنے دینے ہیں تمام پتے ہی نہیں اتار لینے۔ تقریبا چالیس دن بعد چقندر زمین سے باہر نکالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اُن کو باھر نکالنے سے پہلے ایک دفعہ اُن کو دیکھ لیں کہ وہ بڑے ہوئے بھی ہیں کہ نہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے آپ چقندر کے ایک پودے کے اوپر اور سائیڈوں سے مٹی ہٹا کر دیکھ لیں کہ چقند کا سائیز کتنا ہے اگر وہ بڑا ہو تو آپ چقندر مٹی سے باہر نکال سکتے ہیں اور اگر وہ چھوٹا ہو تو اُس کو کچھ دن اور زمین میں رہنے دیں۔ آپ چقندر کا معیاری سائیز اوپر دی گئی تصاویر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ چقندر کے پودے کے بارے میں اختیاطی تدابیر چقندر کے پودوں کو اُس جگہ اگائیں جہاں دن میں ذیادہ سے ذیادہ دھوپ رہتی ہو اگر آپ نے کسی ایسی جگہ پر پودے اگائے جہاں دھوپ ذیادہ نہیں رہتی تو آپ کے پودے تو اگ آئیں گے لیکن اُن کے نیچے چقندر کا سائز بہت ہی چھوٹا یعنی نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ چقندر کے پودے کو ہر روز پانی دیں لیکن یاد رکھیں کے پانی آپ کے گملے یا کنٹینر میں کھڑا نہیں رہنا چاہیے اگر پانی کھڑا رہا تو نہ صرف چقندر کے پودوں پر مختلف کیڑے حملہ کر دیں گے بلکہ آپ کے چقندر بھی گل کر خراب ہو جائیں گے۔ اِس لیے کنٹینر یا گملے میں پانی کے اخراج کا اچھا انتظام ہونا چاہیے۔    چقندرکا شمار ان سبزیوں میں ہوتا ہے جس کی جڑ کو بھی ہم غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس کو دو طرح سے استعمال میں لایا جاتا ہے ایک اس کا سلاد بنایا جاتا ہے دوسرا اسے ابال کر بھی کھایا جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ اس کا جوس بھی پسند کیا جاتا ہے۔

موسم سرما میں چقندر کا استعمال بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے۔ فائبر، فولیٹ، میگنیز، پوٹاشیم، آئرن اور وٹامن سی بھرپور چقندر متعدد جسمانی امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

گرمیوں میں عام طور پر لوگ اسے گاجر کے جوس کے ساتھ ملا کر استعمال میں لاتے ہیں اس طرح اس کی افادیت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔

چقندر میں شکر کے علاوہ کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، فائبر، سوڈیم، زنک، پوٹاشیم، میگنیشیم، وٹامن بی اور وٹامن کے بھی پایا جاتا ہے
چقندر کو کھانے یا اس کا جوس بنانے سے پہلے اسے اچھی طرح صاف یا دھولیں اس کا جوس بننے والی جھاگ کو ہٹا کر پئیں اور ہمیشہ تازہ چقندر کا جوس استعمال کریں۔

اسے فرج میں اسٹور نہ کریں فرج والا جوس نقصان دہ ہوتا ہے چقندر کا جوس گاجر، مالٹا، کنو، آڑو اور سیب وغیرہ کے ساتھ ملا کر ہی پیا جائے تو مفید رہتا ہے۔

چقندر کے پانچ طبی فوائد :

اس مضمون میں ہم چقندر کے فوائد کو شامل کریں گے جسے پڑھ کر آپ اس خوبصورت اور غذائیت سے بھرپور سبزی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کیے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔

بلڈ پریشر کو مستحکم رکھتا ہے : 

ہائی بلڈ پریشر دل کے بعض مسائل جیسے اسٹروک، دل کے دورے ، وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چقندر کے روزانہ استعمال سے اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔چقندر نائٹریٹ سے بھرپور سبزی ہے، جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔جو آپ کو دل کی بیماریوں سے دور رکھے گا۔

ورزش یا ایتھلیٹک کارگردگی میں اضافہ کی وجہ : 

بہت سارے مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ چقندر کے جوس کا استعمال کسی شخص میں ایتھلیٹک کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص کی جسمانی نشونما کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کی آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔

چنانچہ اس سبزی کے استعمال سے خون میں آکسیجن بڑھتی ہے اور سارے جسم تک پہنچتی ہے جس سے جلدی تھکاؤٹ محسوس نہیں ہوتی اور انسان زیادہ دیر تک ورزش کو جاری رکھ سکتا ہے۔

نظام انہضام کو بہتر بنانے کے لیے : 

فائبر سے بھرپورہونے کے سبب یہ ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔فائبر ایک اہم غذائی جز ہے جو آنتوں کو صحت مند رکھنے کے لئے جانا جاتا ہے۔

نظام انہضام کی بہتری سمیت صحت کے لیے متعدد فوائد کا باعث بنتا ہے۔چقندر ہاضمہ بہتر بناتی ہے اور ہاضمے سے جُڑی بیماریوں کو پیدا نہیں ہونے دیتی اور قبض جیسے مسائل سے نجات دلاتا ہے اور ہاضمہ کی دیگر حالتوں سے بچاتا ہے۔

کینسر کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے : 

کچھ مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ چقندر کے استعمال سے کینسر کو پیدا ہونے سے روکنے میں انتہائی معاؤن کردار ادا کرتی ہیں۔اس میں موجود روغن جسم میں کینسر خلیوں کی افزائش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور : 

اس سبزی میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچانے میں مدد کرتا ہے اور آکسیڈیٹو تناؤ کو دور کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ سوزش کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ آسٹیو ارتھرائٹس کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔اس کے علاوہ آئرن اور فولک ایسڈ سے بھرپور ہونے کی وجہ سے چقندر خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خون کے خلیوں کو بڑھاتا ہے جو ہمارے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن لے جانے کا کام کرتے ہیں۔
شکرگڑھ ٹائمز کی پالیسی کے مطابق تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں
 
: سیکیورٹی کوڈ
برائے مہربانی خالی بکس میں سیکیورٹی کوڈ لکھیں
آن لائن سروے
پاکستان میں ہفتہ وار چھٹی کس دن ہونی چاہئے؟
       جمعہ کے دن
       اتوار کے دن
       کہیں جمعہ اور کہیں اتوار
www.shakargarhtimes.com پاکستان کی سب سے بڑی نیوز ویب سائیٹ میں سے ایک ہے۔ جس میں خبروں کے علاوہ شکرگڑھ کے قصبات اور دیہات پر مفصل مواد اور شخصیات کے تعارف اور انٹرویز موجود ہیں۔
Powered & Designed By: